عمدۃ الاثاث فی حکم الطلقات الثلاث

جس میں قرآن کریم، صحیح احادیث اور جمہور حضرات صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ اور ائمہ اربعہؒ اور امتِ مسلمہ کے مسلّم فقہاء کرام اور محدثین عظامؒ سے باحوالہ یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ ایک مجلس میں یا ایک ہی کلمہ سے دی گئی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں۔ یہی حق اور یہی صحیح ہے۔ اور جن حضرات نے بعض روایات سے غلطی کھا کر تین طلاقوں کو ایک قرار دیا ہے، ان کے تسلی بخش جوابات بھی بفضلہ تعالٰی باحوالہ عرض کر دیے گئے ہیں، جو ماننے والوں کے لیے موجبِ بصیرت ہوں گے (ان شاء اللہ تعالٰی) اور نہ ماننے والوں کے لیے اتمام حجت ہوں گے۔ واللہ یقول الحق وھو یھدی السبیل۔

فہرست: عمدۃ الاثاث فی حکم الطلقات الثلاث

تقریظ

دیباچۂ طبع دوم

دیباچۂ طبع اوّل

مذہبِ اسلام کی جامعیت

نکاح کرنا سنت ہے

طلاق باوجود حلال ہونے کے مبغوض ہے

بلاوجہ طلاق کا مطالبہ گناہ ہے

ایک مجلس اور ایک کلمہ کی تین طلاقوں کے بارے میں حضرات ائمہ کرامؒ کا اختلاف

دفعۃً تین طلاقیں دینا جائز ہے، علامہ ابن حزمؒ

اس کا ثبوت حضرت عویمرؓ کی حدیث سے

اس کا ثبوت حضرت محمودؓ بن لبیدؓ کی حدیث سے

حافظ ابن القیمؒ اور ابوداؤدؒ کی روایت سے

بحالتِ حیض دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے

حضرت ابنِ عمرؓ کی روایت

خارجی اور رافضی اس کے وقوع کے قائل نہیں

اسی طرح ابنِ حزمؒ، ابن تیمیہؒ اور ابن القیمؒ بھی

اپنی بیوی کو محرمات میں سے کسی سے تشبیہ دینا گناہ ہے مگر اس پر کفارہ کا حکم مرتب ہے

دفعۃً تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، امام محمدؒ

اور اس سلسلہ میں چار مذاہب کا ذکر

جمہور کے نزدیک تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں

امام ابن رشدؒ اور امام نوویؒ

ابوالبرکاتؒ، ابن تیمیہؒ اور طحاویؒ

حافظ ابن حجرؒ، حافظ ابن الہمامؒ، امام بعلیؒ، حافظ ابن القیمؒ، علامہ عینیؒ، علامہ عبد الرحمٰن دمشقیؒ، امام زرقانیؒ اور امام سیوطیؒ

امیر یمانیؒ اور حافظ ابن القیمؒ کا حوالہ

امام ابن العربیؒ اور ابوبکر الرازیؒ نے تین کے واقع ہونے پر اجماع نقل کیا ہے، حافظ ابن القیمؒ

علامہ آلوسیؒ اور قاضی شوکانیؒ کا حوالہ

مولانا عظیم آبادیؒ کا حوالہ

ارشاد الباری کا حوالہ

مولانا امین احسن اصلاحی کا حوالہ

اجماع حضرات صحابہ کرامؓ حجت ہے، حافظ ابن حجرؒ

اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا ضروری ہے

اجماعِ حضرات صحابہ کرامؓ حجت ہونے پر حافظ ابن تیمیہؒ کے متعدد حوالے

حافظ ابن کثیرؒ اور نواب صدق حسن خانصاحب کا حوالہ، حافظ ابن القیمؒ کا حوالہ

اکیلے دوکیلے آدمیوں کی رائے اجماع پر اثر انداز نہیں ہوتی

ایسے شاذ اقوال کی چند مثالیں

اجماع کے لیے تمام مجتہدینؒ کا اجماع شرط نہیں، نواب صاحبؒ

تین طلاقوں کو ایک قرار دینے کا مذہب شیعہ وغیرہ کا ہے اور شاذ ہے

حافظ ابن تیمیہؒ اور ابن القیمؒ کی اس مسئلہ میں اختلاف کی اصل وجہ

باب اول

جمہور کی پہلی دلیل: نصِ قرآنی

حضرت امام شافعیؒ سے اس کی تفسیر

حضرت ابنِ عباسؓ، مولانا عبد الحئیؒ اور مولانا میر سیالکوٹیؒ

قاضی شوکانیؒ کا جواب ناکافی ہے

دوسری دلیل: بخاری اور مسلم کی حدیث

حافظ ابن حجرؒ، عینیؒ اور قسطلانیؒ سے اس کی تفسیر و تشریح

امام بخاریؒ، دارمیؒ اور بیہقیؒ

تیسری دلیل: مسلم وغیرہ کی روایت

چوتھی دلیل

پانچویں دلیل اور امام نوویؒ سے اس کی شرح

چھٹی دلیل: حدیث ابنِ عمرؓ

اس کے روات کی توثیق

ساتویں دلیل: حضرت رکانہؓ کی حدیث

اس کے روات کی توثیق

اس کا متابع مستدرک وغیرہ سے

آٹھویں دلیل

نویں دلیل

دسویں دلیل

گیارہویں دلیل

بارہویں دلیل

تیرہویں دلیل

چودھویں دلیل

پندرہویں دلیل

سولہویں دلیل

سترہویں دلیل

اٹھارہویں دلیل

انیسویں دلیل

بیسویں دلیل

باب دوم

تین طلاقوں کے ایک ہونے کی پہلی دلیل

اس کا جواب اول کہ یہ طاؤسؒ کا وہم ہے

اس کا جواب دوم کہ یہ مرفوع نہیں

اس کا جواب سوم کہ یہ منسوخ ہے

اس کا جواب چہارم کہ اُس دور میں بجائے تین کے ایک کا رواج تھا

اس کا جواب پنجم کہ تعارض کی صورت میں بھی جمہور کی دلیل راجح ہے

اس کا جواب شسشم کہ یہ غیر مدخول بہا کے بارے میں ہے، مولانا روپڑی صاحبؒ

حضرت عمرؓ کا تین طلاقوں کو تین قرار دینا حکمِ شرعی تھا نہ کہ سیاسی

مولانا میر سیالکوٹیؒ

مولانا ابو سعید شرف الدین صاحبؒ غیر مقلد سے اس کا جواب

حضرت عمرؓ کی ندامت کا قصہ اور اس کا جواب

دوسری دلیل کہ حضرت رکانہؓ نے تین طلاقیں دی تھیں اور ان کو رجوع کا حکم ملا تھا

جواب اول: یہ روایت ضعیف ہے

جواب دوم: حضرت رکانہؓ نے بتّہ طلاق دی تھی نہ کہ تین

تیسری دلیل: یہ بھی حضرت رکانہؓ کی حدیث ہے

اس کا جواب کہ یہ ضعیف ہے، محمد بن اسحاقؒ پر کڑی جرح ہے

چوتھی دلیل کہ مولانا عبد الحئی صاحب لکھنویؒ بھی تین طلاقوں کو ایک کہتے ہیں

اس کا جواب خود ان کی عبارات سے

مغالطات حافظ ابن القیمؒ

پہلا مغالطہ اور اس کا جواب

دوسرا مغالطہ اور اس کا جواب

تیسرا مغالطہ اور اس کا جواب

چوتھا مغالطہ اور اس کا جواب

پانچواں مغالطہ اور اس کا جواب

چھٹا مغالطہ اور اس کا جواب

ساتواں مغالطہ اور اس کا جواب

آٹھواں مغالطہ اور اس کا جواب